About us

طالبِ علم کیا کیا نیِّتیں کرے؟

جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کے دورۂ حدیث ودرجہ سابعہ کے طلبہ کے ساتھ ہونے والے ایک مدنی مذاکرہ میں شیخ طریقت ،امیرِاہلسنت ،بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ سے پڑھنے کی نیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواباً بہت سی نیّتوں کی طرف توجہ دلائی جن میں سے چند یہ ہیں:
(١) رضائے الہی عزوجل کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اس نیت سے پڑھوں گاکہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ان شاء اللہ عزوجل ”
(٢) تعظیمِ علم کے لئے صاف ستھرے کپڑے پہنوں گا ۔
(٣،٤) سادگی کو برقرار رکھتے ہوئے سنت کی تعظیم کے لئے اہتمام سے عمامہ باندھوں گا۔
(٥،٦) تعظیمِ علم اور سنت پر عمل کے لئے خوشبو استعمال کروں گا ۔
(٧) درجہ میں جانے سے پہلے وضو کر لیا کروں گا۔
(٨) درجہ کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے ہر قدم پر طالبُ العلم کی فضیلت پاؤں گا ۔
(٩) نگاہیں جھکاکر رکھوں گا ۔
(١٠) راستے میں ملنے والے اسلامی بھائیوں کو سلام کروں گا ۔
(١١،١٢) موقع ملا تو نیکی کی دعوت پیش کروں گا(یعنی اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ کروں گا ۔) ۔
(١٣) درجہ میں داخل ہوتے وقت سلام کروں گا ۔
(١٤) تعلیمی سال کے آغاز پر مخصوص جگہ پر بیٹھنے کے لئے کسی سے جھگڑا نہیں کروں گا ۔
(١٥) دوران پڑھائی اگر کوئی میری جگہ پر بیٹھ چکاہوا تو نرمی کے ساتھ وہاں سے اٹھنے کی درخواست کروں گا بصورت ِ دیگر صبر کروں گا ۔
(١٦) جان بوجھ کر امرد کے قرب میں نہیں بیٹھوں گا ۔
(١٧) اگر وہ میرے قریب آکر بیٹھ گیا تو میں حتی الامکان اپنی جگہ تبدیل کر لوں گا، بصورت ِ دیگر اپنا جسم اس کے جسم سے چھونے اور اس کا چہرہ یا لباس وغیرہ دیکھ کربات کرنے سے بچوں گا ۔
(١٨) درجہ میں بیٹھنے کی وجہ سے نیک صحبت کے فضائل حاصل کروں گا ۔
(١٩) صحبت کے حقوق پورے کرنے کی کوشش کروں گا ۔
(٢٠) دینی کتب کا ادب کروں گا ۔
(٢١) درس کی جگہ کابھی ادب کروں گا ۔
(٢٢) سبق شروع کرنے سے پہلے یہ پڑھوں گا
الحمدللہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی سید المرسلین اما بعد فاعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
اور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ پر دُرُود بھیجوں گا ۔
(٢٥) استاذ صاحب کی زیارت کرکے عالم کی زیارت کے فضائل حاصل کروں گا ۔
(٢٦) استاذ صاحب کی بات توجہ سے سنوں گا ۔
(٢٧) اگر کوئی بات سمجھ نہ آئی تو پوچھ لوں گا ۔
(٢٨) فضول اور بے محل سوالات کرکے اپنے ساتھی طلبہ اور استاذ صاحب کو کوفت میں مبتلاء نہیں کروں گا ،
(٢٩) قلتِ فہم پر صبر کروں گا۔
(٣٠) کثرتِ فہم پر شکر کروں گا اور تکبر سے بچوں گا ۔
(٣١) اگر استاذ صاحب یا ناظم صاحب نے کبھی ڈانٹ دیا تو خاموش رہ کر صبر کروں گا ۔
(٣٢) ایک استاذ صاحب کی کمزوریاں دوسرے استاذ صاحب کو بتا کر انہیں آپس کی رنجش میں مبتلاء کرنے میں حصہ دار نہیں بنوں گا ۔
(٣٣) جائز سفارش کرنے کا موقع ملا تو ضرور کروں گا ۔
(٣٤) جامعہ کے جدول پر عمل کروں گا ۔
(٣٥) اگر مجھے کسی کی شکایت کی وجہ سے کوئی سزا ملی تو میں اسے سزا دلوانے کے لئے موقع کی تلاش میں نہیں رہوں گا ۔
(٣٦) ساتھی طلبہ کی کسی بات پر غصہ آنے کی صورت میں غصہ پی کر اس کی فضیلت کو حاصل کروں گا ۔
(٣٧) پورے بدن کا قفلِ مدینہ لگاؤں گا(یعنی ہرہرعضو کو خلافِ شرع استعمال سے بچاؤں گا)۔
(٣٨) بلااجازت کسی کی کتاب یا کاپی یا قلم وغیرہ استعمال نہیں کروں گا ۔
(٣٩) اگر سبق یاد کرنے کے دوران کوئی بات بھول گئی تو اپنے سے (بظاہر) کمزور یا عمر میں چھوٹے اسلامی بھائی سے پوچھنے میں شرم محسوس نہیں کروں گا۔
(٤٠) اور اگر مجھ سے کسی نے سبق کے بارے میں دریافت کیا تو حتی المقدور احسن انداز میں سمجھانے کی کوشش کرکے مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کے فضائل پاؤں گا ۔
(٤١) اگر مجھ سے نادانستہ طور پر کسی کی حق تلفی ہوگئی تو معافی مانگنے میں دیر نہیں کروں گا۔
(٤٢) غم زدہ اسلامی بھائی کی غم خواری کروں گا ۔
(٤٣) بیمار اسلامی بھائی کی عیادت کروں گا۔
(٤٤) آپس میں ناراض ہوجانے والے اسلامی بھائیوں میں صلح کروانے کی کوشش کروں گا ۔
(٤٥) اگر کسی اسلامی بھائی کو مالی مدد کی ضرورت ہوئی تو استاذ صاحب کے مشورے یا ان کے ذریعے سے اس کی مالی مدد کر کے راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے کا ثواب لوں گا ۔
(٤٦) اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کروں گا ۔
(٤٧) اگر ممکن ہوا تو کھانے وغیرہ کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کروں گا ۔
(٤٨،٤٩) اگر کبھی تنگ دستی نے آگھیرا تو بھی بلاضرورتِ شرعی کسی سے سوال نہیں کروں گا بلکہ ایسی صورت میں قرض لے کر اپنی مشکل حل کروں گا اور قرض حسب ِ وعدہ واپس بھی لوٹا دوں گا ۔
(٥٠) اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع نہیں کروں گا بلکہ پڑھائی اور مدنی کاموں میں مشغول رہوں گا۔
(٥١) اپنے علم پر عمل کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل کروں گا ۔
(٥٢) ہرمدنی ماہ کی ابتدائی تاریخوں میں اپنا کارڈ مدنی انعامات کے ذمہ دار کو جمع کروا دیا کروں گا۔
(٥٣) مدنی مرکز کی طرف سے دئےے گئے جدول کے مطابق عاشقان ِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرتا رہوں گا۔