About us

تعارف


الحمد لله رب العالمين و الصلوة و السلام عليٰ سيد المرسلين

اما بعد فاعوذ بالله من الشيطٰن الرجيم بسم الله الرحمٰن الرحيم

فرمانِ امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ: ’’جامعۃ المدینہ دعوتِ اسلامی کا مغز ہے ‘‘

جامعۃ المدینہ کا آغاز

امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی علم دوستی اور اشاعتِ علمِ دین کی تڑپ کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام جامعۃ المدینہ کی سب سے پہلی شاخ ۱۹۹۵ء میں نیوکراچی کے علاقے مدرسۃ المدینہ گودھرا کالونی باب المدینہ کراچی کی دوسری منزل میں کھولی گئی ۔ جہاں تین اساتذہ کرام نے اسلامی بھائیوں کو درسِ نظامی پڑھانا شروع کیا ۔ اس جامعۃالمدینہ کو قائم ہوئے دویا تین برس ہوئے تھے کہ جامعۃالمدینہ کی عمارت علم کے پیاسے اسلامی بھائیوں کی کثرت کی وجہ سے ناکافی ہوگئی چنانچہ اس جامعۃ المدینہ کو ۱۹۹۸ء میں گلستان جوہر مسجد فیضانِ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑوس میں وسیع عمارت میں منتقل کردیا گیا ہے۔ اسی دوران سبز مارکیٹ (شومارکیٹ) باب المدینہ کراچی میں بھی شام کے اوقات میں جامعۃ المدینہ کا آغاز ہو چکا تھا ۔ امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی کی حصولِ علم دین کی بھر پور ترغیب کے نتیجے میں جہاں لاکھوں عاشقانِ رسول ،راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والےدعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں کے مسافر بنے وہیں کثیر تعداد نے مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ علمِ دین کے حصول کے لئے جامعۃ المدینہ کا بھی رخ کیا ۔یوں دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں جامعۃ المدینہ کی مزید شاخیں کھلتی چلی گئیں ۔ اس وقت جامعۃ المدینہ کی دنیا بھر میں سینکڑوں شاخیں قائم ہوچکی ہیں پاکستان، ہند ، نیپال، بنگلہ دیش، یوکے ، ساؤتھ افریقہ، سی لنکا، موزمبیق، کینیا ،موریشش ، ہزاروں طلباء علم دین حاصل کررہے ہیں اور اب تک ہزاروں طلبا فارغ التحصیل ہوچکے ہیں

جامعۃ المدینہ کے قیام کے مقاصد

جامعۃالمدینہ کےقیام کاسب سےبڑامقصدرضائےالٰہی وخوشنودی محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاحصول ہے۔

اعلی حضرت امام احمد رضاخاں علیہ الرحمۃفتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:کہ ہر شہر،بستی میں ایک عالم کا ہونا فرضِ کفایہ ہے۔ جامعۃالمدینہ کے قیام کا مقصد ملک و بیرو ن ملک تبلیغ دین ،مسائل شرعیہ کی تعلیم اور مدنی کاموں کے لیے مدنی علماء تیار کرناہے۔ تا کہ ہر شہر و بستی میں ایک عالم دین موجود ہو۔

امیر اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادریاطال اللہ عمرہ کی مدنی سوچ کے مطابق نیکی کی دعوت کو عام کرنا، اسلام و سنیت کی خدمت کرنانیز علم و عمل کی مدنی سوچ کواساتذہ ، ناظمین ،طلبہ اور دیگر عملے تک منتقل کرنا ،

دعوت اسلامی کے شعبہ جات میں مدنی علماء فراہم کرنا۔

اسلامی بھائیوںمیں علم دین کی ترویج واشاعت کرنا۔

مدنی مقصد (مجھے اپنی اورساری دنیاکےلوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے) کےحصول کےلیےمضبوط علماءو مبلغین تیارکرنا۔

حفاظت ایمان کی فکراجاگرکرنا۔

فرض علوم سےروشناس کرنا۔

ہرطرح کے تنظیمی،انتظامی،تعلیمی معاملات و معمولات میں شریعت کی بھرپورپاس داری کرنےکاذہن دینا،

تعلیمی واخلاقی وروحانی تربیت کرنا

حسنِ معاشرت کی کوشش کرنا۔

نیزخیرخواہی مسلم کےجذبےکو فروغ دینا،